دی ہندو: مدراس ہائی کورٹ سے ڈی سدھا کی قبل از گرفتاری ضمانت منظور
بھارت2 ذرائع

دی ہندو کے مطابق مدراس ہائی کورٹ نے ڈی ایم کے کی 60 سالہ کونسلر ڈی سدھا کو قبل از گرفتاری ضمانت دے دی ہے۔ ڈی سدھا پر الزام ہے کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے کے خلاف مبینہ طور پر نازیبا الفاظ استعمال کیے اور انہیں 'لاش' کہا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں آزادی اظہار رائے کا حوالہ دیا ہے۔
دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق مدراس ہائی کورٹ نے ڈی ایم کے کی 60 سالہ کونسلر ڈی سدھا کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست منظور کر لی ہے۔ انہیں وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے کے خلاف مبینہ طور پر نازیبا زبان استعمال کرنے کے الزام کا سامنا تھا۔
ان پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ کو 'لاش' کہہ کر پکارا تھا۔
عدالت نے اس کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے آزادی اظہار رائے کے حق کا حوالہ دیا۔ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پولیس کو ہر صورت میں غیر جانبدار رہنا چاہیے، اور اس کی بنیادی ذمہ داری حکمران جماعت کے بجائے ریاست کی خدمت کرنا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
یہ عدالتی فیصلہ آزادی اظہار رائے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور پولیس کی غیر جانبداری پر زور دیتا ہے کہ وہ حکمران جماعت کے بجائے ریاست کی خدمت کرے۔
ذرائع
تبدیلیوں کا ریکارڈ
Added attribution to The Hindu and 'anticipatory bail' in the headline. Reworded and consolidated the body to avoid exact repetition of the summary.