sorted.سارٹڈ کے بارے میں

دہلی ہائی کورٹ نے جے این یو پروفیسر کی برطرفی معطل کر دی

بھارت4 ذرائع

ہندوستان کی خبروں کے لیے علامتی تصویر
تصویر: Sorted (Sorted original)

دہلی ہائی کورٹ نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر انگومچا بمل اکوئیجم کی برطرفی کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ دی ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ایک کمیٹی کی سفارش پر انہیں 9 اکتوبر کو برطرف کیا گیا تھا۔ ان پر مئی میں 11 طالبات نے جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا۔ دینک بھاسکر کے مطابق عدالت نے اگلی سماعت جنوری میں مقرر کی ہے۔

دینک بھاسکر کے مطابق انگومچا بمل اکوئیجم اندرونی منی پور لوک سبھا نشست سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ہیں اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سکول آف سوشل سائنسز میں پروفیسر تھے۔

دی ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایک داخلی کمیٹی کی جانب سے تحقیقات کے بعد تادیبی کارروائی کی سفارش پر انہیں 9 اکتوبر کو برطرف کر دیا گیا تھا۔ اس سے قبل مئی میں 11 طالبات نے ان پر جنسی ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔

انگومچا بمل اکوئیجم نے جنسی ہراساں کرنے کے الزامات کی تردید کی ہے اور اپنی برطرفی کے حکم کو چیلنج کیا ہے۔ دینک بھاسکر کے مطابق جسٹس انوپ جے بھمبھانی نے ان کی درخواست پر یونیورسٹی کو نوٹس جاری کیا ہے۔ دینک بھاسکر نے مزید بتایا کہ عدالت نے اس کیس کی اگلی سماعت جنوری میں مقرر کی ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

ایک پروفیسر اور دینک بھاسکر کے مطابق کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پر 11 طالبات نے جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ان الزامات کی تردید کے بعد انہوں نے اپنی برطرفی کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔

ذرائع

  1. The Times of Indiaآزاد ذریعہDelhi HC stays JNU professor Bimol Akoijam's termination over sexual harassment case
  2. Dainik Bhaskarآزاد ذریعہदिल्ली हाईकोर्ट ने JNU प्रोफेसर की बर्खास्तगी पर रोक लगाई:अंगोमचा बिमोल मणिपुर से कांग्रेस सांसद भी, 11 छात्राओं के यौन शोषण का आरोप

تبدیلیوں کا ریکارڈ

  1. Removed the editorializing/unsupported statement from why_it_matters and replaced it with a factual summary based on the existing claims.